Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1663 (سنن أبي داود)

[1663]صحیح

صحیح مسلم (1728)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْخُزَاعِيُّ وَمُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْہَبِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي سَفَرٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَی نَاقَةٍ لَہُ فَجَعَلَ يُصَرِّفُہَا يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ كَانَ عِنْدَہُ فَضْلُ ظَہْرٍ فَلْيَعُدْ بِہِ عَلَی مَنْ لَا ظَہْرَ لَہُ وَمَنْ كَانَ عِنْدَہُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِہِ عَلَی مَنْ لَا زَادَ لَہُ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْفَضْلِ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی پر آیا اور اسے دائیں بائیں گھمانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس کے پاس کوئی زائد سواری ہو وہ اس شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو۔اور جس کے پاس کھانے پینے کی کوئی زائد چیز ہو وہ اس شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو۔‘‘ (آپ ﷺ کے اس ارشاد سے) ہم نے یہ سمجھا کہ ہمارے زائد اموال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔