Sunan Abi Dawood Hadith 1664 (سنن أبي داود)
[1664] إسنادہ ضعیف
غیلان:سمعہ من عثمان بن عمیر أبی الیقظان عن جعفر بن إیاس بہ (رواہ البیھقي 83/4)
وأبو الیقظان ضعیف مختلط مدلس
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَعْلَی الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا غَيْلَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ قرآن وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّة /قرآن َ قَالَ كَبُرَ ذَلِكَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ فَانْطَلَقَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللہِ إِنَّہُ كَبُرَ عَلَی أَصْحَابِكَ ہَذِہِ الْآيَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ اللہَ لَمْ يَفْرِضْ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ لِتَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ فَكَبَّرَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ لَہُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْہَا سَرَّتْہُ وَإِذَا أَمَرَہَا أَطَاعَتْہُ وَإِذَا غَابَ عَنْہَا حَفِظَتْہُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب یہ آیت کریمہ قرآن ((والذین یکنزون الذہب والفضۃ )) /قرآن نازل ہوئی تو اس سے مسلمانوں کو بہت گرانی ہوئی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہاری مشکل دور کرتا ہوں،چنانچہ وہ سب آئے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے اصحاب کو یہ آیت بہت بھاری محسوس ہو رہی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض ہی اس لیے کی ہے کہ اس سے تمہارا بقیہ مال پاک ہو جائے۔اور وراثت اس لیے فرض فرمائی ہے کہ تمہارے بعد والوں کو ملے۔‘‘ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ((اللہ اکبر)) پھر آپ نے اس سے فرمایا ’’کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ وہ کیا بہترین چیز ہے جو انسان خزانہ بناتا ہے؟‘‘ فرمایا ’’وہ نیک صالحہ بیوی ہے،جب اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کر دے،اسے کوئی بات کہے تو مان لے اور جب وہ غائب ہو تو اس (کے گھر،مال اور اپنی عفت) کی حفاظت کرے۔‘‘