Sunan Abi Dawood Hadith 1667 (سنن أبي داود)
[1667]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (665 وسندہ صحیح) والنسائي (2575 وسندہ صحیح) وصححہ ابن خزیمۃ (2473 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (1879، 1942)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ لَہُ يَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْكَ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَی بَابِي فَمَا أَجِدُ لَہُ شَيْئًا أُعْطِيہِ إِيَّاہُ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنْ لَمْ تَجِدِي لَہُ شَيْئًا تُعْطِينَہُ إِيَّاہُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيہِ إِلَيْہِ فِي يَدِہِ
سیدہ ام بجید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے اور وہ ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں،مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے اور میرے پاس اسے دینے کو کچھ نہیں ہوتا جو میں اسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر تمہیں اسے دینے کو کچھ نہ ملے،اور تمہارے پاس بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو۔‘‘