Sunan Abi Dawood Hadith 1668 (سنن أبي داود)
[1668]صحیح
صحیح بخاری (2620) صحیح مسلم (1003)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَہْدِ قُرَيْشٍ وَہِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَہِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُہَا قَالَ نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ قریش کے ساتھ معاہدہ حدیبیہ کے دونوں میں میری والدہ میرے پاس (مدینے میں) آئی جب کہ وہ (اسلام کو) ناپسند کرتی تھی اور مشرکہ تھی۔میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے ہاں آئی ہے اور (اسلام کو) ناپسند کرتی ہے اور مشرکہ ہے۔کیا میں اس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کا معاملہ کرو۔‘‘