Sunan Abi Dawood Hadith 1669 (سنن أبي داود)
[1669] إسنادہ ضعیف
والحدیث الآتی (3476)
سیار بن منظور و أبوہ مستوران لم یوثقھما غیر ابن حبان وانظر التحریر (2717،6913)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا كَہْمَسٌ عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَہَا بُہَيْسَةُ عَنْ أَبِيہَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ ﷺ فَدَخَلَ بَيْنَہُ وَبَيْنَ قَمِيصِہِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ يَا نَبِيَّ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ قَالَ الْمِلْحُ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ قَالَ أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ
بہیسہ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے نقل کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی کریم ﷺ سے ملنے کی اجازت چاہی۔اور وہ آپ ﷺ کی قمیص اور آپ ﷺ کے درمیان داخل ہو گئے اور آپ ﷺ کا جسم چومنے اور اس سے لپٹنے لگے۔پھر کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے جس کا روک لینا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’پانی‘‘ پھر پوچھا اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے جس کا روک لینا حلال نہیں؟ فرمایا ’’نمک‘‘ پھر پوچھا اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے جس کا روک لینا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو بھلائی بھی تم کرو،وہ تمہارے لیے خیر ہے۔‘‘