Sunan Abi Dawood Hadith 1681 (سنن أبي داود)
[1681] إسنادہ ضعیف
نسائی (3694) ابن ماجہ (3684)
ذکرہ الحاکم فی المستدرک فقال الذہبي ’’لا،فإنہ غیرمتصل‘‘ (تلخیص المستدرک: 1/ 414)
یعني سعید ابن المسیب لم یدرک سعد بن عبادۃ
وللحدیث شواھد ضعیفۃ عند النسائي (3696) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّہُ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ ہَذِہِ لِأُمِّ سَعْدٍ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (میری والدہ) ام سعد فوت ہو گئی ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ (جو میں ان کی طرف سے کروں) آپ ﷺ نے فرمایا ’’پانی‘‘ چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ (میری والدہ) ام سعد کی طرف سے ہے۔