Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1689 (سنن أبي داود)

[1689]صحیح

صحیح مسلم (998)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ہُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَ قرآن نْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ /قرآن قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللہِ أَرَی رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَإِنِّي أُشْہِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِأَرِيحَاءَ لَہُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ اجْعَلْہَا فِي قَرَابَتِكَ فَقَسَمَہَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ أَبُو دَاوُد بَلَغَنِي عَنْ الْأَنْصَارِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَرَامِ بْنِ عَمْرِو بْنِ زَيْدِ مَنَاةَ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ حَرَامٍ يَجْتَمِعَانِ إِلَی حَرَامٍ وَہُوَ الْأَبُ الثَّالِثُ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَتِيكِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ فَعَمْرٌو يَجْمَعُ حَسَّانَ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَيًّا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ بَيْنَ أُبَيٍّ وَأَبِي طَلْحَةَ سِتَّةُ آبَاءٍ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ قرآن ((الن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون)) /قرآن نازل ہوئی تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگتا ہے تو آپ گواہ رہیں کہ میں نے اپنی اریحا والی زمین اللہ کے لیے دی،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو۔‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب میں تقسیم کر دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے انصاری محمد بن عبداللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا نسب یوں ہے ابوطلحہ زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار۔اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کا نسب اس طرح ہے حنان بن ثابت بن منذر بن حرام۔ابوطلحہ اور حسان دونوں تیسرے باپ یعنی (پردادا) حرام پر جمع ہوتے ہیں۔اور ابی رضی اللہ عنہ کا نسب یہ ہے ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار۔عمرو (عمرو بن مالک) ان تینوں کو جمع کرتا ہے۔یعنی حسان،ابوطلحہ اور ابی کو۔انصاری نے وضاحت کی کہ ابی اور ابوطلحہ میں چھٹے باپ میں جا کر رشتہ جڑتا ہے۔