Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1699 (سنن أبي داود)

[1699]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (1960 وسندہ صحیح) ورواہ البخاري (1433) ومسلم (1029) وانظر الحدیث الآتي (1700)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَہُ أَفَأُعْطِي مِنْہُ قَالَ أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَی عَلَيْكِ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بس وہی ہوتا ہے جو (میرے شوہر) زبیر گھر میں لے آئیں۔تو کیا میں اس سے دے دیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اسماء!) دو اور باندھ باندھ کر مت رکھو،ورنہ تم پر بھی (تمہارا رزق) باندھ دیا جائے گا۔‘‘