Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1704 (سنن أبي داود)

[1704]صحیح

صحیح بخاری (2436) صحیح مسلم (1722)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ اللُّقَطَةِ قَالَ عَرِّفْہَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِہَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّہَا فَأَدِّہَا إِلَيْہِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ فَقَالَ خُذْہَا فَإِنَّمَا ہِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللہِ ﷺ حَتَّی احْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ أَوْ احْمَرَّ وَجْہُہُ وَقَالَ مَا لَكَ وَلَہَا مَعَہَا حِذَاؤُہَا وَسِقَاؤُہَا حَتَّی يَأْتِيَہَا رَبُّہَا

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے گری پڑی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔پھر اس کا سربند (بندھن) اور تھیلی (یا برتن جس میں وہ ہو) خوب یاد کر لو۔اور اسے اپنے استعمال میں لے آؤ۔اگر اس کا ملک آ جائے تو اسے دے دو۔‘‘ پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری (کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے لے لو۔یہ تمہارے لیے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔‘‘ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اور گمشدہ اونٹ؟ اس پر آپ غصے میں آ گئے حتیٰ کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے یا کہا کہ چہرہ سرخ ہو گیا۔اور فرمایا ’’تمہیں اس سے کیا غرض؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا (پاوں) ہے اور مشکیزہ ہے۔(اس کے پیٹ میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور صلاحیت ہے) یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے گا۔‘‘