Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1705 (سنن أبي داود)

[1705]صحیح

أخرجہ البخاري (2429) ومسلم (1722) وانظر الحدیث السابق (1704)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ زَادَ سِقَاؤُہَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ وَلَمْ يَقُلْ خُذْہَا فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ عَرِّفْہَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُہَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِہَا وَلَمْ يَذْكُرْ اسْتَنْفِقْ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاہُ الثَّوْرِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَہُ لَمْ يَقُولُوا خُذْہَا

جناب مالک نے اس حدیث کو اسی سند سے اسی کے ہم معنی روایت کیا۔اور مزید کہا: ’’(اس کے ساتھ) اس کا مشکیزہ ہے،وہ پانی پر پہنچ کر پانی پی لے گا اور جھاڑیاں کھا کر گزارہ کر لے گا۔‘‘ اور گمشدہ بکری کے سلسلے میں ((خذہا)) ’’اسے لے لو‘‘ کے لفظ روایت نہیں کیے اور گری پڑی چیز ((لقطۃ)) کے بارے میں فرمایا ’’ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔پھر اگر اس کا مالک آ جائے (تو بہتر) ورنہ تم جانو (یعنی اس کے مالک بن جاؤ)‘‘ اور ’’خرچ کر لینے‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسے ثوری،سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے ربیعہ سے اسی کے مثل روایت کیا اور انہوں نے ((خذہا)) کا لفظ نہیں کہا۔