Sunan Abi Dawood Hadith 1707 (سنن أبي داود)
[1707]صحیح
انظر الحدیث السابق (1704) ورواہ إبراہیم بن طھمان فی المشیخۃ (4 وسندہ حسن/ معاذ)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي إِبْرَاہِيمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيہِ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ أَنَّہُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ تُعَرِّفُہَا حَوْلًا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُہَا دَفَعْتَہَا إِلَيْہِ وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَہَا وَعِفَاصَہَا ثُمَّ أَفِضْہَا فِي مَالِكَ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَيْہِ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا۔اور ربیعہ کی حدیث کے مانند ذکر کیا۔(سابقہ حدیث: 1704) کہا کہ آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’’ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔پس اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کے سپرد کر دو۔نہیں تو اس کا بندھن اور برتن خوب یاد کر لو اور اسے اپنے مال میں شامل کر لو۔پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کو دے دو۔‘‘