Sunan Abi Dawood Hadith 1708 (سنن أبي داود)
[1708]صحیح
صحیح مسلم (1722)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةَ بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاہُ وَزَادَ فِيہِ فَإِنْ جَاءَ بَاغِيہَا فَعَرَفَ عِفَاصَہَا وَعَدَدَہَا فَادْفَعْہَا إِلَيْہِ و قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَہُ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہَذِہِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُہَيْلٍ وَيَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَعُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ وَرَبِيعَةَ إِنْ جَاءَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ عِفَاصَہَا وَوِكَاءَہَا فَادْفَعْہَا إِلَيْہِ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ فَعَرَفَ عِفَاصَہَا وَوِكَاءَہَا وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَيْضًا قَالَ عَرِّفْہَا سَنَةً وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ عَرِّفْہَا سَنَةً
یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی کے ہم معنی مروی ہے اس میں اضافہ ہے: ’’اگر اس کا متلاشی آ جائے اور اس کی تھیلی (یا برتن) اور اس کی گنتی (وغیرہ علامات) بتا دے تو وہ چیز اس کے سپرد کر دو۔‘‘ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے،انہوں نے عمرو بن شعیب سے،انہوں (عمرو) نے اپنے والد (شعیب) سے،انہوں نے اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن عاص) سے،انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد بن سلمہ کا یہ اضافہ،جو انہوں نے سلمہ بن کہیل،یحییٰ بن سعید،عبیداللہ بن عمر اور ربیعہ کی روایت میں ذکر کیا ہے یعنی ’’اگر اس کا مالک آ جائے اور اس چیز کی تھیلی (یا برتن) اور اس کا سربند (علامات) بتا دے تو اسے اس کے حوالے کر دو۔‘‘ (اس سند کے ساتھ) یہ الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔یعنی ((فعرف عفاصہا ووکاءہا)) اور عقبہ بن سوید کی حدیث جو ان کے والد سے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ ’’ایک سال تک اعلان کرو۔‘‘ نیز سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ ’’ایک سال تک اعلان کرو۔‘‘