Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1710 (سنن أبي داود)

[1710]صحیح

ان جریج تابعہ عمرو بن الحارث وہشام بن سعد عند ابن الجارود (728 وسندہ حسن) والنسائی (4962 مختصرًا، وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3036، 3594)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ بِفِيہِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْہِ،وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْہُ, فَعَلَيْہِ غَرَامَةُ مِثْلَيْہِ،وَالْعُقُوبَةُ،وَمَنْ سَرَقَ مِنْہُ شَيْئًا،بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَہُ الْجَرِينُ،فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ, فَعَلَيْہِ الْقَطْعُ . وَذَكَرَ فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ،كَمَا ذَكَرَہُ غَيْرُہُ. قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: مَا كَانَ مِنْہَا فِي طَرِيقِ الْمِيتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ،فَعَرِّفْہَا سَنَةً،فَإِنْ جَاءَ طَالِبُہَا فَادْفَعْہَا إِلَيْہِ،وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَہِيَ لَكَ،وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ-يَعْنِي فَفِيہَا-،وَفِي الرِّكَازِ-: الْخُمُسُ.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ (درختوں پر) لٹکتے پھل کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جس کسی ضرورت مند نے اسے اپنے منہ سے کھا لیا ہو،اپنے پلو میں کچھ نہ باندھا ہو تو اس پر کچھ نہیں۔لیکن جو وہاں سے کچھ لے کر نکلے تو اس پر دو گنا جرمانہ ہے اور سزا۔اور جس نے اسے اس کے مخزن میں آ جانے کے بعد چرایا تو اگر وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہوا تو اس پر ہاتھ کٹے گا۔‘‘ اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں ویسے ہی بیان کیا جیسے کہ دوسرے راویوں نے ذکر کیا ہے۔اور گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ’’جو تمہیں آباد رستوں اور بستیوں میں سے ملے تو اس کا ایک سال تک اعلان کرو۔پس اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے تو اس کے حوالے کر دو،ورنہ وہ تمہاری ہے۔اور جو کسی اجاڑ ویران جگہ سے ملے تو اس میں اور ایسے ہی کوئی دفینہ ملے،تو اس میں خمس ہے۔‘‘ (پانچواں حصہ زکٰوۃ ہے)۔