Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1716 (سنن أبي داود)

[1716]إسنادہ حسن

وللحدیث شواھد

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَی فَاطِمَةَ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ فَقَالَ مَا يُبْكِيہِمَا قَالَتْ الْجُوعُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَی فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَہَا فَقَالَتْ اذْہَبْ إِلَی فُلَانٍ الْيَہُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَہُودِيَّ فَاشْتَرَی بِہِ فَقَالَ الْيَہُودِيُّ أَنْتَ خَتَنُ ہَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللہِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّی جَاءَ بِہِ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَہَا فَقَالَتْ اذْہَبْ إِلَی فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْہَمٍ لَحْمًا فَذَہَبَ فَرَہَنَ الدِّينَارَ بِدِرْہَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِہِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَی أَبِيہَا فَجَاءَہُمْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَہُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاہُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِہِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ كُلُوا بِاسْمِ اللہِ فَأَكَلُوا فَبَيْنَمَا ہُمْ مَكَانَہُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللہَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَدُعِيَ لَہُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَا عَلِيُّ اذْہَبْ إِلَی الْجَزَّارِ فَقُلْ لَہُ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ لَكَ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْہَمُكَ عَلَيَّ فَأَرْسَلَ بِہِ فَدَفَعَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَيْہِ

جناب سہل بن سعد کا بیان ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (گھر میں) آئے تو (دیکھا کہ) حسن اور حسین رو رہے ہیں۔پوچھا یہ کیوں رو رہے ہیں؟ کہا کہ بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔پس علی رضی اللہ عنہ (گھر سے) نکل آئے تو (اتفاق سے) بازار میں انہیں ایک دینار پڑا مل گیا تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بتایا (کہ اس طرح سے ملا ہے۔) انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیں اور ہمارے لیے آٹا لے آئیں۔چنانچہ وہ یہودی کے پاس آئے اور اس سے آٹا خریدا۔یہودی نے کہا: بھلا آپ اس شخص کے داماد ہیں جو اپنے آپ کو رسول اللہ کہتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! تو اس نے کہا: دینار اپنے پاس رکھیں اور آٹا لے جائیں۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (آٹا) لے آئے اور ساری بات بتائی۔انہوں نے کہا: فلاں قصاب کے پاس جائیں اور ایک درہم کا گوشت لے آئیں۔چنانچہ وہ گئے ‘ اپنا دینار اس کے پاس رہن رکھا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا،ہنڈیا چولہے پر رکھی،روٹی پکائی اور اپنے والد ﷺ کو بلا بھیجا۔وہ ان کے ہاں تشریف لے آئے۔تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاؤں اگر آپ اسے حلال فرمائیں تو ہم اسے کھائیں گے اور آپ بھی ہمارے ساتھ کھائیں گے اور اس کا حال اس اس طرح سے ہے۔آپ ﷺ نے سن کر فرمایا ’’اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔‘‘ چنانچہ سب نے کھا لیا۔ابھی وہ اپنی جگہ (دستر خوان ہی) پر بیٹھے تھے کہ ایک لڑکا،اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنا گمشدہ دینار ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور اسے بلایا گیا۔آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: مجھے سے بازار میں (کہیں) گرا ہے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اے علی! اس قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول فرماتے ہیں: وہ دینا میرے ہاں بھیج دو اور تمہارا درہم میرے ذمے ہے۔‘‘ چنانچہ اس نے دینار بھیج دیا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اس غلام کے حوالے کر دیا۔