Sunan Abi Dawood Hadith 1720 (سنن أبي داود)
[1720] إسنادہ ضعیف
ابن ماجہ (2503)
فیہ علۃ قادحۃرواہ ابن ماجہ من حدیث أبي حیان التیمي عن الضحاک بن المنذر خال المنذر بن جریر عن المنذر بن جریر بہ إلخ و الضحاک مجھول الحال،و ثقہ ابن حبان وحدہ
و روی مسلم (1735) عن زید بن خالد الجہني رضي اللہ عنہ عن رسول اللہ ﷺ قال:((من آوی ضالۃ فھو ضال مالم یعرّفھا)) وھو یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيہَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْہَا فَقَالَ لَہُ جَرِيرٌ مَا ہَذِہِ قَالَ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا نَدْرِي لِمَنْ ہِيَ فَقَالَ جَرِيرٌ أَخْرِجُوہَا فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ (میں اپنے والد) جریر (جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ) کے ساتھ بو (ازیج) مقام ازیج میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا۔اور ان میں ایک گائے ان کی نہیں تھی۔سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: بس گایوں کے ساتھ مل گئی ہے۔ہمیں معلوم نہیں کہ کس کی ہے۔تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے علیحدہ کر دو۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ’’گمشدہ چیز کو کوئی ((ضال)) گمراہ انسان ہی لیتا ہے۔‘‘