Sunan Abi Dawood Hadith 1730 (سنن أبي داود)
[1730]صحیح
صحیح بخاری (1523)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الرَّازِيَّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَخْرَمِيُّ وَہَذَا لَفْظُہُ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ كَانَ أَہْلُ الْيَمَنِ أَوْ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَأَنْزَلَ اللہُ سُبْحَانَہُ قرآن وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَی /قرآن الْآيَةَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ حج کو آتے مگر زاد راہ ساتھ نہ لاتے تھے۔ابومسعود نے کہا کہ اہل یمن یا کچھ اہل یمن حج کے لیے آتے مگر زاد راہ ساتھ نہ لاتے اور کہتے کہ ہم متوکل لوگ ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: قرآن ((وتزودوا فإن خیر الزاد التقوی)) /قرآن ’’زاد راہ (یعنی اخراجات سفر) ساتھ لے کر چلو اس لیے کہ بہترین توشہ تقویٰ (سوال سے بچنا) ہے۔‘‘