Sunan Abi Dawood Hadith 1733 (سنن أبي داود)
[1733]إسنادہ صحیح
صححہ ابن خزیمۃ (3051 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا أُكَرِّي فِي ہَذَا الْوَجْہِ وَكَانَ نَاسٌ يَقُولُونَ لِي إِنَّہُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي رَجُلٌ أُكَرِّي فِي ہَذَا الْوَجْہِ وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ لِي إِنَّہُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَلَيْسَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّي وَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِي الْجِمَارَ قَالَ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَإِنَّ لَكَ حَجًّا جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَسَأَلَہُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْہُ فَسَكَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَلَمْ يُجِبْہُ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ قرآن لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ /قرآن فَأَرْسَلَ إِلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَقَرَأَ عَلَيْہِ ہَذِہِ الْآيَةَ وَقَالَ لَكَ حَجٌّ
جناب ابوامامہ تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں سفر میں کرائے کی سواریاں چلایا کرتا تھا تو بعض لوگوں نے مجھ سے کہا: ’’تیرا حج نہیں ہے۔‘‘ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمٰن! میں سفر حج میں کرائے پر سواریاں چلاتا ہوں اور کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے۔تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: کیا تم احرام نہیں باندھتے ہو اور تلبیہ نہیں پڑھتے ہو؟ کیا بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ہو؟ عرفات سے نہیں لوٹتے ہو؟ اور جمرات کو کنکریاں نہیں مارتے ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (سب کچھ کرتا ہوں) انہوں نے فرمایا: بلاشبہ تیرا حج (صحیح) ہے۔ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اور اس نے بالکل یہی سوال کیا تھا جیسے کہ تم نے مجھ سے کیا ہے۔تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہو رہے اور اس کو جواب نہیں دیا تھا حتیٰ کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ((لیس علیکم جناح أن تبتغوا فضلا من ربکم)) ’’تم پر کوئی گناہ (اور حرج) نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلا بھیجا اور اس پر یہ آیت پڑھی اور فرمایا: تیرا حج (صحیح) ہے۔