Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1734 (سنن أبي داود)

[1734]صحیح

أخرجہ الحاکم (1/449 وسندہ حسن) وللحدیث شاھد عند البخاري (1770)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًی وَعَرَفَةَ وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَہُمْ حُرُمٌ فَأَنْزَلَ اللہُ سُبْحَانَہُ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ قَالَ فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَنَّہُ كَانَ يَقْرَؤُہَا فِي الْمُصْحَفِ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ پہلے (قبل از اسلام) حج کے دنوں میں منٰی،عرفات،سوق ذی المجاز اور ایام حج میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔(اسلام لانے کے بعد) انہوں نے احرام باندھے ہوئے خرید و فروخت میں حرج سمجھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ((لیس علیکم جناح أن تبتغوا فضلا من ربکم سورۃ البقرۃ آیۃ 198 فی مواسم الحج)) ’’تم پر کوئی حرج یا گناہ نہیں کہ ’’ایام حج‘‘ میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔‘‘ عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ ((فی مواسم الحج)) کے اضافہ کے ساتھ،مصحف میں پڑھا کرتے تھے۔