Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1757 (سنن أبي داود)

[1757]صحیح

صحیح بخاری (1699) صحیح مسلم (1321)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَہَا وَقَلَّدَہَا ثُمَّ بَعَثَ بِہَا إِلَی الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْہِ شَيْءٌ كَانَ لَہُ حِلًّا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے قربانی کے اونٹ کے ہار کی رسیاں اپنے ہاتھوں سے بٹیں،پھر آپ نے ان کا اشعار کیا اور ان کے گلے میں قلاوہ ڈالا،پھر اسے بیت اللہ کی جانب روانہ کر دیا اور خود مدینہ میں مقیم رہے تو جو چیزیں آپ کے لیے حلال تھیں (اسی طرح حلال ہی رہیں) کچھ بھی حرام نہ ہوا۔