Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1763 (سنن أبي داود)

[1763]صحیح

صحیح مسلم (1325)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ وَہَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَی بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَہُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْہَا شَيْءٌ قَالَ تَنْحَرُہَا ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَہَا فِي دَمِہَا ثُمَّ اضْرِبْہَا عَلَی صَفْحَتِہَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْہَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ أَوْ قَالَ مِنْ أَہْلِ رُفْقَتِكَ قَالَ أَبُو دَاوُد الَّذِي تَفَرَّدَ بِہِ مِنْ ہَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُہُ وَلَا تَأْكُلْ مِنْہَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ثُمَّ اجْعَلْہُ عَلَی صَفْحَتِہَا مَكَانَ اضْرِبْہَا قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَی كَفَاكَ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فلاں اسلمی کو بھیجا اور اس کے ساتھ اٹھارہ اونٹ قربانی کے بھجوائے۔وہ کہنے لگا: فرمائیے اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں گھسیٹنے لگے (چلنے سے لاچار ہو جائے اور تھک جائے تو؟) آپ نے فرمایا ’’اسے نحر کر دینا،اس کے جوتوں کو خون سے چپڑ کر اس کی کوہان پر نشان لگا دینا اور تم یا تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی اس سے نہ کھائے۔‘‘ حدیث کے لفظ ((من أصحابک)) تھے یا ((أہل رفقتک)) تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ جملہ (( ولا تأکل منہا أنت ولا أحد من أہل رفقتک)) منفرد ہے اور عبدالوارث کی روایت میں ((ثم اضربہا)) کی بجائے ((اجعلہ علی صفحتہا)) آیا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ (موسیٰ بن اسمٰعیل المنقری) سے سنا،وہ کہتے تھے کہ جب تم نے حدیث کی سند اور اس کے معنی صحیح اور درست طور پر بیان کر دیے تو کافی ہے (الفاظ بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی روایت بالمعنی جائز ہے)۔