Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1766 (سنن أبي داود)

[1766] إسنادہ ضعیف

عبد اللہ بن الحارث الأزدي(الکندي) لم یوثقہ غیر ابن حبان وجھلہ ابن القطان الفاسي فھو مجہول،انظر التحریر (3267)

انوار الصحیفہ ص 70

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَزْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ غُرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ قَالَ شَہِدْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ فَقَالَ ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ فَدُعِيَ لَہُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ وَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِأَعْلَاہَا ثُمَّ طَعَنَا بِہَا فِي الْبُدْنِ فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَہُ وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللہُ عَنْہُ

سیدنا عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں حاضر تھا کہ قربانی کی اونٹنیاں لائی گئیں۔آپ نے فرمایا ’’ابوالحسن (علی) کو بلاؤ۔‘‘ چنانچہ انہیں آپ کے لیے بلایا گیا،تو آپ نے ان سے فرمایا ’’برچھے کو نیچے سے پکڑو۔‘‘ اور خود آپ نے اس کے اوپر سے پکڑا،پھر آپ دونوں نے اسے (اونٹنیوں کے نحر کرنے میں) چلایا۔جب آپ فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا۔