Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1772 (سنن أبي داود)

[1772]صحیح

صحیح بخاری (166) صحیح مسلم (1187)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّہُ قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُہَا قَالَ مَا ہُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَہَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْہِلَالَ وَلَمْ تُہِلَّ أَنْتَ حَتَّی كَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيہَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيہَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَہَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَصْبُغُ بِہَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِہَا وَأَمَّا الْإِہْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يُہِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِہِ رَاحِلَتُہُ

سیدنا عبید بن جریج کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! میں آپ کو چار کام کرتے دیکھتا ہوں،آپ کا کوئی ساتھی یہ نہیں کرتا۔انہوں نے کہا: اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (دوران طواف میں) بیت اللہ کے صرف دو کونوں ((یمانیین)) (حجر اسود اور رکن یمانی) کو ہاتھ لگاتے ہیں اور آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایسے چمڑے کی جوتی پہنتے ہیں جس پر بال نہیں ہوتے۔اور آپ کو دیکھا ہے کہ زرد رنگ استعمال کرتے ہیں۔(کپڑوں میں یا بالوں میں بطور خضاب کے) اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہوں تو لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے ہیں مگر آپ آٹھویں ذوالحجہ کو احرام باندھتے ہیں۔سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جہاں تک (دوران طواف میں) ارکان کو چھونے کا تعلق ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کہ دیکھا ہے کہ آپ صرف دونوں یمانی ارکان ہی کو چھوتے تھے۔(حجر اسود اور رکن یمانی کو۔) اور بے بال چمڑے کے جوتے،تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ کا جوتا ایسے چمڑے کا ہوتا تھا جس پر بال نہ ہوتے تھے اور آپ اس میں وضو (بھی) کر لیا کرتے تھے تو میں ایسے ہی جوتے پہننا پسند کرتا ہوں۔اور رہا زرد رنگ،تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ اس سے رنگتے تھے،لہٰذا میں بھی اس سے رنگنا پسند کرتا ہوں۔رہا احرام اور تلبیہ،تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ اپنی سواری کے کھڑی ہونے سے پہلے تلبیہ پکارتے ہوں۔