Sunan Abi Dawood Hadith 1778 (سنن أبي داود)
[1778]صحیح
أخرجہ النسائي (2718 وسندہ صحیح) ورواہ البخاري (317) ومسلم (1211)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ح و حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا وُہَيْبٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ مُوَافِينَ ہِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يُہِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُہِلَّ وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُہِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُہِلَّ بِعُمْرَةٍ قَالَ مُوسَی فِي حَدِيثِ وُہَيْبٍ فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَہْدَيْتُ لَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَأَمَّا أَنَا فَأُہِلُّ بِالْحَجِّ فَإِنَّ مَعِي الْہَدْيَ ثُمَّ اتَّفَقُوا فَكُنْتُ فِيمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ قَالَ ارْفِضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي قَالَ مُوسَی وَأَہِلِّي بِالْحَجِّ وَقَالَ سُلَيْمَانُ وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّہِمْ فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ أَمَرَ يَعْنِي رَسُولَ اللہِ ﷺ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَذَہَبَ بِہَا إِلَی التَّنْعِيمِ زَادَ مُوسَی فَأَہَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِہَا وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَضَی اللہُ عُمْرَتَہَا وَحَجَّہَا قَالَ ہِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ ہَدْيٌ قَالَ أَبُو دَاوُد زَادَ مُوسَی فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ طَہُرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ذوالحجہ کا چاند آنے پر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔جب ذوالحلیفہ مقام پر آئے تو آپ نے فرمایا ’’جو حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے باندھا لے اور جو چاہے عمرے کی نیت کر لے۔‘‘ موسیٰ بن اسمٰعیل نے وہیب کی روایت میں بیان کیا کہ (آپ نے فرمایا) ’’میں نے اگر قربانی ساتھ نہ لی ہوتی تو عمرے کا احرام باندھتا۔‘‘ اور حماد بن سلمہ کی روایت میں کہا: ’’اور میں حج کا احرام باندھ رہا ہوں کیونکہ میرے ساتھ قربانی ہے۔‘‘ آگے روایت بیان کرنے میں سب راوی متفق ہیں۔(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ) میں ان افراد میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا،پھر راستے میں ایک جگہ مجھے حیض شروع ہو گیا۔رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور میں رو رہی تھی۔آپ نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ اس سال نہ آئی ہوتی (تو اچھا تھا۔) آپ نے فرمایا ’’اپنا عمرہ چھوڑ دو،اپنے بال کھول لو اور کنگھی کر لو۔‘‘ موسیٰ نے کہا: ’’اور حج کی نیت کر لو‘‘ اور سلیمان نے کہا: ’’اور اسی طرح کرو جیسے کہ مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں۔‘‘ الغرض جب (حج سے) واپسی کی رات آئی،تو رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن (ابن ابی بکر رضی اللہ عنہما یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی) کو حکم دیا،تو وہ انہیں تنعیم لے گئے۔موسیٰ نے مزید کہا: پس انہوں نے عمرے کا احرام باندھا۔یعنی اپنے پہلے عمرے کے بدلے،پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔الغرض اﷲ نے ان کا عمرہ اور حج پورا کرا دیا۔ہشام کہتے ہیں اس صورت میں کوئی ہدی (فدیہ وغیرہ) نہ ہوا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی روایت میں مزید کہا: پھر جب بطحاء کی رات آئی (یعنی منٰی میں اقامت کی رات) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پاک ہو گئی تھیں۔