Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1781 (سنن أبي داود)

[1781]صحیح

صحیح بخاری (1556) صحیح مسلم (1211)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ كَانَ مَعَہُ ہَدْيٌ فَلْيُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِيعًا فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَہِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ہَذِہِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ قَالَتْ فَطَافَ الَّذِينَ أَہَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاہُ إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَمَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ نَحْوَہُ لَمْ يَذْكُرُوا طَوَافَ الَّذِينَ أَہَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حجتہ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔ہم نے عمرے کا احرام باندھا۔پھر آپ نے فرمایا ’’جس کے ساتھ ہدی ہے وہ عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی کہے،اور وہ حلال نہیں ہو گا حتیٰ کہ ان دونوں سے فارغ ہو۔‘‘ سو میں مکہ آئی تو حیض کی کیفیت میں تھی۔میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا مروہ کی سعی کی۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی،تو آپ نے فرمایا ’’اپنا سر کھول لو ‘ کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔‘‘ فرماتی ہیں: چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا۔پھر جب ہم نے حج پورا کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے (میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تنعیم بھیجا اور میں نے عمرہ کیا۔اور آپ نے فرمایا ’’یہ تیرے اس عمرے کے بدلے ہے۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں کہ (مکہ پہنچنے کے بعد) جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی اور پھر حلال ہو گئے۔ان لوگوں نے منیٰ سے واپسی کے بعد حج کے لیے ایک اور طواف کیا (طواف افاضہ زیادہ) مگر جن لوگوں نے حج اور عمرے کا اکٹھے احرام باندھا تھا (حج قران کا) تو انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔ان لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھنے والوں یا حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھنے والوں کے طواف کا ذکر نہیں کیا۔