Sunan Abi Dawood Hadith 1782 (سنن أبي داود)
[1782]صحیح
صحیح مسلم (1211)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّی إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ فَقُلْتُ حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللہِ إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبَہُ اللہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَقَالَ انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّہَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَہَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْہَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَہُ الْہَدْيُ قَالَتْ وَذَبَحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ نِسَائِہِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ وَطَہُرَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَہَبَ بِہَا إِلَی التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب ہم (سرف) مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔آپ نے پوچھا: ’’عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟‘‘ میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا ہے۔کاش! میں حج کے لیے نہ آئی ہوتی۔آپ نے فرمایا ’’سبحان اللہ! یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔‘‘ تب آپ نے فرمایا ’’حج کے تمام اعمال پورے کرو،صرف بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔‘‘ چنانچہ جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو اپنے اس احرام کو عمرے کا بنانا چاہے بنا لے۔سوائے اس کے جس کے پاس قربانی ہو۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن اپنی ازواج کی طرف سے گائیں ذبح کیں اور جب بطحاء کی رات آئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا پاک ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والی حج اور عمرہ کر کے جائیں گی اور میں صرف حج کے ساتھ لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ اسے تنعیم لے گئے اور انہوں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے عمرے کا تلبیہ کہا۔