Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1785 (سنن أبي داود)

[1785]صحیح

صحیح مسلم (1213)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مُہِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُہِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّی إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يُحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَہُ ہَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا فَقَالَ الْحِلُّ كُلُّہُ فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَہْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی عَائِشَةَ فَوَجَدَہَا تَبْكِي فَقَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلُلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْہَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الْآنَ فَقَالَ إِنَّ ہَذَا أَمْرٌ كَتَبَہُ اللہُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَہِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَہُرَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَجَجْتُ قَالَ فَاذْہَبْ بِہَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْہَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِكَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج (حج افراد) کی نیت سے چلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھا حتیٰ کہ جب مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا۔پھر جب ہم مکہ آئے اور کعبے کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ حلال ہو جائے۔ہم نے کہا: حلال ہونا کیسا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’پوری طرح سے حلال ہونا‘‘ چنانچہ ہم اپنی ازواج سے ہمبستر بھی ہوئے،خوشبوئیں لگائیں اور اپنے عام کپڑے پہن لیے۔حالانکہ ہمارے اور عرفہ جانے کے درمیان صرف چار راتیں باقی تھیں۔پھر ہم نے آٹھویں تاریخ کو احرام باندھا،رسول اللہ ﷺ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے تو دیکھا کہ رو رہی ہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ کہنے لگیں کہ مجھے حیض آ گیا ہے۔لوگ حلال ہوئے،میں حلال نہیں ہوئی،اور نہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اب وہ حج کے لیے جا رہے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ معاملہ تو اللہ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے۔تم غسل کر لو اور حج کے لیے احرام باندھ لو۔‘‘ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا اور حج کے تمام مقامات پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم اپنے حج اور عمرے سب سے حلال ہو گئی ہو۔‘‘ کہنے لگیں،اے اللہ کے رسول! میرے دل میں حسرت ہے کہ میں نے جب حج کیا تو (ابتداء میں) طواف نہیں کر سکی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے عبدالرحمٰن ان کو لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔‘‘ اور یہ حصبہ کی رات تھی۔(یعنی ایام تشریق کے بعد جس رات مدینہ کی طرف واپسی کے لیے بطحاء میں پڑاؤ ڈالا گیا تھا)۔