Sunan Abi Dawood Hadith 1789 (سنن أبي داود)
[1789]صحیح
صحیح بخاری (1651)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ عَطَاءٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَہَلَّ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْہُمْ يَوْمَئِذٍ ہَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ ﷺ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَہُ الْہَدْيُ فَقَالَ أَہْلَلْتُ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَإِنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ يَجْعَلُوہَا عُمْرَةً يَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيُحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَہُ الْہَدْيُ فَقَالُوا أَنَنْطَلِقُ إِلَی مِنًی وَذُكُورُنَا تَقْطُرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَہْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْہَدْيَ لَأَحْلَلْتُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا۔اس دن نبی ﷺ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس قربانی نہ تھی۔اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے اور وہ اپنے ساتھ قربانیاں لائے تھے۔پس انہوں نے اس طرح نیت کی تھی: میں اسی طرح احرام باندھتا ہوں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے۔اور آپ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا تھا کہ اپنے احرام کو عمرہ کا احرام بنا لیں ‘ طواف کریں (صفا مروہ کی سعی بھی کریں) پھر بال کٹوا کر حلال ہو جائیں ‘ سوائے اس کے جس کے ساتھ قربانی ہو۔کچھ لوگوں نے کہا: تو کیا ہم منیٰ کو اس حالت میں جائیں گے کہ ہمارے اعضائے تناسل منی ٹپکا رہے ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ’’اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں (بھی) حلال ہو جاتا۔‘‘