Sunan Abi Dawood Hadith 1792 (سنن أبي داود)
[1792] إسنادہ ضعیف
یزید: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَی عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَہَلَّ النَّبِيُّ ﷺ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ وَلَمْ يُقَصِّرْ ثُمَّ اتَّفَقَا وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْہَدْيِ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْہَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَی وَيُقَصِّرَ ثُمَّ يُحِلَّ زَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِہِ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يُحِلَّ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج کا تلبیہ کہا۔جب مکہ تشریف لائے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی۔ابن شوکر نے کہا،اور آپ نے اپنے بال نہیں کتروائے،پھر ابن شوکر اور احمد بن منیع دونوں نے کہا،اور آپ اپنی قربانی کی وجہ سے حلال نہیں ہوئے۔(لیکن) جن لوگوں کے ساتھ قربانی نہیں تھی ‘ انہیں حکم دیا کہ طواف اور سعی کے بعد بال کتروا کر حلال ہو جائیں۔ابن منیع کی روایت میں اضافہ ہے: یا بال منڈوا کر حلال ہو جائیں۔