Sunan Abi Dawood Hadith 1796 (سنن أبي داود)
[1796]صحیح
صحیح بخاری (1551)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا وُہَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَاتَ بِہَا يَعْنِي بِذِي الُحُلَيْفَةِ حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ رَكِبَ حَتَّی إِذَا اسْتَوَتْ بِہِ عَلَی الْبَيْدَاءِ حَمِدَ اللہُ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ ثُمَّ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَہَلَّ النَّاسُ بِہِمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّی إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَہَلُّوا بِالْحَجِّ وَنَحَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِہِ قِيَامًا قَالَ أَبُو دَاوُد الَّذِي تَفَرَّدَ بِہِ يَعْنِي أَنَسًا مِنْ ہَذَا الْحَدِيثِ أَنَّہُ بَدَأَ بِالْحَمْدِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ثُمَّ أَہَلَّ بِالْحَجِّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذوالحلیفہ کے مقام پر رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔پھر آپ (ظہر کے بعد) اپنی سواری پر سوار ہوئے حتیٰ کہ جب وہ آپ کو لے کر میدان بیداء میں سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے اﷲ کی حمد ‘ تسبیح اور تکبیر پکاری۔پھر حج اور عمرے کا تلبیہ کہا۔اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا تلبیہ کہا۔پھر جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو حلال ہو گئے۔(ان لوگوں کو جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں) حتی کہ جب آٹھویں تاریخ آئی تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹنیاں نحر کیں،اس حال میں کہ وہ کھڑی ہوئی تھیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اس روایت میں اس بات میں منفرد ہیں کہ انہوں نے ’’اللہ کی حمد،تسبیح اور تکبیر کہی،پھر حج کا تلبیہ کہا۔‘‘