Sunan Abi Dawood Hadith 1797 (سنن أبي داود)
[1797] إسنادہ ضعیف
نسائی (2726،2746)
أبو إسحاق عنعن
ولأ صل الحدیث شواھد کثیرۃ
و حدیث البخاري (4353) و مسلم (1232) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُعِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی الْيَمَنِ قَالَ فَأَصَبْتُ مَعَہُ أَوَاقِيَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ وَجَدْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَقَدْ نَضَحَتْ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ فَقَالَتْ مَا لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَہُ فَأَحَلُّوا قَالَ قُلْتُ لَہَا إِنِّي أَہْلَلْتُ بِإِہْلَالِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ لِي كَيْفَ صَنَعْتَ فَقَالَ قُلْتُ أَہْلَلْتُ بِإِہْلَالِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْہَدْيَ وَقَرَنْتُ قَالَ فَقَالَ لِي انْحَرْ مِنْ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَأَمْسِكْ لِي مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ مِنْہَا بَضْعَةً
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یمن کا والی بنا کر بھیجا تو میں ان کے ساتھ تھا۔اس خدمت کے صلے میں مجھے چند اوقیہ (سونا) بھی ملا تھا۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب یمن سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ سے ملے تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ انہوں نے رنگین کپڑے پہنے ہیں اور اپنی منزل کو بھی انہوں نے معطر کر رکھا ہے۔(سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا) تو وہ بولیں: آپ حیران کیوں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ہے اور وہ حلال ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ والے احرام کی نیت کر رکھی ہے۔کہتے ہیں،چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا ’’تم نے (نیت) کیسے کی ہے؟‘‘ میں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کے احرام والی نیت کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں اپنی قربانی ساتھ لایا ہوں اور قران کی نیت کی ہے۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ سڑسٹھ یا چھیاسٹھ اونٹ نخر کرو اور تینتیس یا چونتیس اونٹ اپنے لیے لے لو اور ہر قربانی میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا میرے لیے لاؤ۔‘‘