Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1801 (سنن أبي داود)

[1801]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ حَتَّی إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ قَالَ لَہُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلَجِيُّ يَا رَسُولَ اللہِ اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ فَقَالَ إِنَّ اللہَ تَعَالَی قَدْ أَدْخَلَ عَلَيْكُمْ فِي حَجِّكُمْ ہَذَا عُمْرَةً فَإِذَا قَدِمْتُمْ فَمَنْ تَطَوَّفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَہُ ہَدْيٌ

جناب ربیع بن سبرہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب ہم مقام عسفان میں تھے تو سراقہ بن مالک مدلجی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا: اے اﷲ کے رسول! ہمیں خوب واضح فرما دیجئیے اور ہمیں ایسی قوم سمجھیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔آپ نے فرمایا ’’بلاشبہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارے اس حج میں عمرے کو داخل کر دیا ہے،سو جب تم مکہ پہنچو تو جس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی،پس وہ حلال ہو گیا الا یہ کہ اس کے ساتھ قربانی ہو۔‘‘