Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1809 (سنن أبي داود)

[1809]صحیح

صحیح بخاری (1513) صحیح مسلم (1334)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَجَاءَتْہُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ تَسْتَفْتِيہِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْہَا وَتَنْظُرُ إِلَيْہِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللہِ عَلَی عِبَادِہِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَی الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْہُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ان کے بھائی) حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت آپ ﷺ سے کچھ پوچھنے کو آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ انہیں دیکھنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔اس عورت نے پوچھا: اے اﷲ کے رسول! اﷲ کا فریضہ حج اس کے بندوں میں،میرے والد کو اس حالت میں پہنچا ہے کہ وہ سواری پر ٹکنے کی سکت بھی نہیں رکھتے،تو کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘ اور یہ حجتہ الوداع کا واقعہ ہے۔