Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1812 (سنن أبي داود)

[1812]صحیح

صحیح بخاری (1549) صحیح مسلم (1184)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ لَبَّيْكَ اللہُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِي تَلْبِيَتِہِ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تلبیہ کے الفاظ اس طرح تھے عربی ((لبیک اللہم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک،إن الحمد والنعمۃ لک والملک،لا شریک لک)) /عربی ’’حاضر ہوں میں،اے اللہ! حاضر ہوں۔حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں۔میں حاضر ہوں۔بیشک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور ملک بھی تیرا ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘ نافع نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے تلبیہ میں اضافہ کرتے ہوئے یوں کہا کرتے تھے ((لبیک لبیک لبیک وسعدیک والخیر بیدیک والرغباء إلیک والعمل)) ’’میں حاضر ہوں،میں حاضر ہوں،میں حاضر ہوں اور بہت سعادت مند ہوں۔خیر اور بھلائی سب تیرے ہاتھوں میں ہے۔ہماری سب رغبتیں اور سوال تیری طرف ہیں اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہیں۔‘‘