Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1814 (سنن أبي داود)

[1814]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (829 وسندہ صحیح) والنسائي (2754 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (2549)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ ﷺ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي وَمَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَہُمْ بِالْإِہْلَالِ أَوْ قَالَ بِالتَّلْبِيَةِ يُرِيدُ أَحَدَہُمَا

جناب خلاد بن سائب انصاری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ اور دوسرے ساتھ والوں کو حکم دوں کہ تلبیہ کہنے میں اپنی آوازیں اونچی رکھیں۔‘‘ راوی کہتا ہے کہ آپ کے الفاظ ((بالإہلال)) تھے یا ((بالتلبیۃ)) (معنی ایک ہی ہیں)۔