Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1818 (سنن أبي داود)

[1818] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (3392)

ابن إسحاق عنعن

انوار الصحیفہ ص 71، 72

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ حُجَّاجًا حَتَّی إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَنَزَلْنَا فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا إِلَی جَنْبِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَجَلَسْتُ إِلَی جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَزِمَالَةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَاحِدَةً مَعَ غُلَامٍ لِأَبِي بَكْرٍ فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْہِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَہُ بَعِيرُہُ قَالَ أَيْنَ بَعِيرُكَ قَالَ أَضْلَلْتُہُ الْبَارِحَةَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّہُ قَالَ فَطَفِقَ يَضْرِبُہُ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ يَتَبَسَّمُ وَيَقُولُ انْظُرُوا إِلَی ہَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ قَالَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی أَنْ يَقُولَ انْظُرُوا إِلَی ہَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ وَيَتَبَسَّمُ

دختر ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں حج کے لیے نکلے۔جب ہم مقام عرج پر پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے پڑاؤ کیا اور ہم بھی اتر پڑے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھیں اور میں اپنے والد (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے پاس بیٹھی۔ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامان سفر کا جانور ایک ہی تھا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام کی تحویل میں تھا۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ آ جائے۔چنانچہ جب وہ آیا تو وہ اونٹ اس کے ساتھ نہیں تھا۔انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ آج رات گم ہو گیا ہے۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: صرف ایک اونٹ اور وہ بھی تو نے گم کر دیا؟ اور پھر اسے مارنے لگے اور رسول اللہ ﷺ مسکراتے رہے اور فرمانے لگے: ’’دیکھو اس محرم کو،کیا کر رہا ہے؟‘‘ ابن ابی رزمہ کے الفاظ ہیں ((فما یزید رسول اللہ *** )) یعنی رسول اللہ ﷺ نے اس سے زیادہ نہ کہا کہ ’’دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے!‘‘ اور مسکراتے رہے۔