Sunan Abi Dawood Hadith 1819 (سنن أبي داود)
[1819]صحیح
صحیح بخاری (1789) صحیح مسلم (1180)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ ﷺ وَہُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْہِ أَثَرُ خَلُوقٍ أَوْ قَالَ صُفْرَةٍ وَعَلَيْہِ جُبَّةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي فَأَنْزَلَ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی عَلَی النَّبِيِّ ﷺ الْوَحْيَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْہُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ الْعُمْرَةِ قَالَ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الْخَلُوقِ أَوْ قَالَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ وَاخْلَعْ الْجُبَّةَ عَنْكَ وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا صَنَعْتَ فِي حَجَّتِك
جناب صفوان اپنے والد یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ مقام جعرانہ میں تھے اور اس آدمی پر خلوق خوشبو کا اثر تھا (جو کہ زغفران وغیرہ سے بنی ہوتی ہے) یا کہا زرد رنگ کی خوشبو تھی۔اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا۔اس نے کہا: اے اﷲ کے رسول! آپ مجھے کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنے عمرے میں کیسے کروں؟ تو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر وحی نازل فرمائی۔جب آپ ﷺ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو دریافت کیا: ’’وہ عمرے کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے اس نے فرمایا ’’خلوق خوشبو دھو ڈالو۔‘‘ یا فرمایا ’’زرد رنگ دھو ڈالو جبہ اتار دو اور اپنے عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔‘‘