Sunan Abi Dawood Hadith 1849 (سنن أبي داود)
[1849] إسنادہ ضعیف
حمید الطویل مدلس (طبقات المدلسین 3/71) وعنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيہِ وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةُ عُثْمَانَ عَلَی الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ طَعَامًا فِيہِ مِنْ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلَحْمِ الْوَحْشِ قَالَ فَبَعَثَ إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَجَاءَہُ الرَّسُولُ ﷺ وَہُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَہُ فَجَاءَہُ وَہُوَ يَنْفُضُ الْخَبَطَ عَنْ يَدِہِ فَقَالُوا لَہُ كُلْ فَقَالَ أَطْعِمُوہُ قَوْمًا حَلَالًا فَأَنَا حُرُمٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَنْشُدُ اللہَ مَنْ كَانَ ہَا ہُنَا مِنْ أَشْجَعَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَہْدَی إِلَيْہِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَی أَنْ يَأْكُلَہُ قَالُوا نَعَمْ
اسحٰق بن عبداللہ بن حارث اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جناب حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے طائف کے گورنر تھے۔انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانے کا اہتمام کیا اور اس میں چکوروں،جنگلی چڑیوں اور نیل گائے کا گوشت تیار کروایا۔اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا۔قاصد جب ان کے پاس پہنچا تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے پتے جھاڑ رہے تھے۔چنانچہ وہ اپنے ہاتھ (پتوں کے گرد غبار سے) جھاڑتے ہوئے تشریف لائے۔صاحب ضیافت نے ان سے کہا: کھائیے! تو انہوں نے جواب دیا: یہ کھانا ایسے لوگوں کو دے دیں جو احرام میں نہ ہوں،ہم تو احرام میں ہیں۔تب انہوں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قسم دے کر کہتا ہوں کہ قبیلہ اشجع میں سے کون یہاں ہے،کیا تم جانتے ہو کہ ایک شخص (حمار وحشی) نے رسول اللہ ﷺ کو حالت احرام میں نیل گائے کا گوشت ہدیہ کیا تھا،تو آپ نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا تھا؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں (یہ بات حق اور سچ ہے)۔