Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1852 (سنن أبي داود)

[1852]صحیح

صحیح بخاری (2914) صحیح مسلم (1196)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّہُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ حَتَّی إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ مُحْرِمِينَ وَہُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَی حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِہِ قَالَ فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ أَنْ يُنَاوِلُوہُ سَوْطَہُ فَأَبَوْا فَسَأَلَہُمْ رُمْحَہُ فَأَبَوْا فَأَخَذَہُ ثُمَّ شَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَہُ فَأَكَلَ مِنْہُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَأَبَی بَعْضُہُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللہِ ﷺ سَأَلُوہُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا ہِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوہَا اللہُ تَعَالَی

سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے حتیٰ کہ مکہ کے راستے میں ایک جگہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جو کہ احرام میں تھے جب کہ یہ بغیر احرام کے تھے۔ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک نیل گائے کو دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ساتھیوں سے کہا: مجھے میرا کوڑا پکڑا دو۔انہوں نے کوڑا دینے سے انکار کر دیا۔پھر بھالا مانگا تو انہوں نے اس (کے دینے) سے بھی انکار کر دیا۔آخر خود ہی اٹھایا اور اس نیل گائے کے پیچھے بھاگ گئے اور اسے مار لائے۔تو کچھ اصحاب رسول ﷺ نے اس کا گوشت کھایا اور کچھ نے انکار کر دیا۔پھر جب یہ حضرات رسول اللہ ﷺ سے جا ملے تو آپ سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو رزق ہے جو اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔‘‘