Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 1860 (سنن أبي داود)

[1860] إسنادہ ضعیف

الحکم بن عتیبۃ مدلس و عنعن

انوار الصحیفہ ص 73

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ أَصَابَنِي ہَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّی تَخَوَّفْتُ عَلَی بَصَرِي فَأَنْزَلَ اللہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی فِيَّ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِہِ أَذًی مِنْ رَأْسِہِ الْآيَةَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ لِي احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ انْسُكْ شَاةً فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں۔جبکہ میں حدیبیہ کے سال (اس سفر میں) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔اور (سر کی اذیت اتنی شدید تھی کہ) مجھے اپنی نظر کا اندیشہ لگ گیا تھا۔پس اللہ عزوجل نے میرے بارے میں یہ آیت اتاری ((فمن کان منکم مریضا أو بہ أذی من رأسہ)) پس رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلوایا اور فرمایا ’’اپنا سر منڈا دو۔تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو ایک ٹوکرا کشمش کا کھلا دو یا ایک بکری قربانی کر دو۔‘‘ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا اور پھر قربانی کر دی۔