Sunan Abi Dawood Hadith 1864 (سنن أبي داود)
[1864]حسن
محمد بن إسحاق بن یسار صرح بالسماع عند البیھقي في دلائل النبوۃ (4/ 320) و للحدیث شاھد قوي عند الحاکم (1/ 485) مشکوۃ المصابیح (2712)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِہْرَانَ قَالَ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَہْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِہَدْيٍ فَلَمَّا انْتَہَيْنَا إِلَی أَہْلِ الشَّامِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ فَنَحَرْتُ الْہَدْيَ مَكَانِي ثُمَّ أَحْلَلْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لِأَقْضِيَ عُمْرَتِي فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ أَبْدِلْ الْہَدْيَ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْہَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری کو سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام نے مکہ میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا تھا میں (ابوحاضر حمیری) عمرے کی غرض سے روانہ ہوا۔میرے ساتھ قوم کے کچھ افراد نے اپنی قربانیاں بھی بھیجی تھیں۔جب ہم اہل شام کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا۔چنانچہ میں نے قربانی اسی جگہ نحر کر دی اور پھر حلال ہو گیا اور واپس لوٹ آیا۔پھر جب اگلا سال آیا اور میں اپنے عمرے کی قضا کے لیے چلا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اپنی قربانی کا بدل بھی دو۔بیشک رسول اللہ ﷺ نے عمرہ قضا میں اپنے صحابہ سے فرمایا تھا کہ حدیبیہ کے سال انہوں نے جو قربانیاں کی تھیں ان کے عوض قربانیاں بھی کریں۔