Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 300 (سنن أبي داود)

[300]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ،عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ عَنِ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ،عَنْ عَائِشَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ..., مِثْلَہُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَالْأَعْمَشِ،عَنْ حَبِيبٍ وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ كُلُّہَا ضَعِيفَةٌ لَا تَصِحُّ وَدَلَّ عَلَی ضُعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ،عَنْ حَبِيبٍ ہَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَہُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَأَنْكَرَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا وَأَوْقَفَہُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفٌ،عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاہُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُہُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيہِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَدَلَّ عَلَی ضُعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ ہَذَا أَنَّ رِوَايَةَ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ. وَرَوَی أَبُو الْيَقْظَانِ،عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ وَعَمَّارٍ مَوْلَی بَنِي ہَاشِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَی عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ وَبَيَانٌ وَالْمُغِيرَةُ وَفِرَاسٌ وَمُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ،عَنْ عَائِشَةَ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَرِوَايَةَ دَاوُدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنْ قَمِيرَ،عَنْ عَائِشَةَ تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً وَرَوَی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَہَذِہِ الْأَحَادِيثُ كُلُّہَا ضَعِيفَةٌ إِلَّا حَدِيثَ قَمِيرَ وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَی بَنِي ہَاشِمٍ وَحَدِيثَ ہِشَامِ ابْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ وَالْمَعْرُوفُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْغُسْلُ

جناب مسروق کی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں،انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ بالا حدیث کے مانند بیان کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مذکورہ الصدر روایات عدی بن ثابت،اعمش حبیب اور ایوب ابوالعلاء سب ضعیف ہیں،صحیح نہیں ہیں۔اعمش بواسطہ حبیب کی حدیث (مذکورہ 298) ضعیف ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حفص بن غیاث،اعمش سے موقوف بیان کرتے ہیں اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے،نیز اسباط نے اعمش سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف ذکر کیا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن داود نے اعمش سے صرف پہلا حصہ مرفوع روایت کیا ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ اس میں ہر نماز کے لیے وضو کا بیان ہو۔حبیب کی اس حدیث کے ضعیف ہونے کی (دوسری) دلیل یہ بھی ہے کہ ((الزہری عن عروۃ عن عائشۃ)) کی مستحاضہ والی روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔جب کہ ابوالیقظان نے بہ سند ((عن عدی بن ثابت عن أبیہ عن علی)) اور عمار مولیٰ بنی ہاشم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور عبدالملک بن میسرہ،بیان بن بشر،مغیرہ،فراس اور مجالد نے شعبی سے حدیث قمیر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے۔داود اور عاصم کی روایت میں جو ((عن الشعبی عن حدیث قمیر عن عائشۃ)) سے مروی ہے کہ ہر روز ایک غسل کرے۔جب کہ ((ہشام بن عروۃ عن أبیہ)) کی روایت ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔اور یہ سب احادیث ضعیف ہیں،سوائے (ان تین احادیث کے یعنی) حدیث قمیر (زوجہ مسروق) حدیث عمار مولیٰ بنی ہاشم اور حدیث ((ہشام بن عروۃ عن أبیہ))۔اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا معروف قول غسل کا ہے۔