Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 357 (سنن أبي داود)

[357] إسنادہ ضعیف

ام الحسن،جدۃ ابی بکر العدوی: لایعرف حالھا (تقریب: 8718)

قال معاذ علي زئي: وقال ابن دقیق العید: ’’جدۃ أبي بکر: یُحتاج إلی الکشف عن حالھا‘‘ (الامام في معرفۃ أحادیث الأحکام: 3/ 439)

انوار الصحیفہ ص 27

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا عَنْ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَہَا الدَّمُ قَالَتْ تَغْسِلُہُ فَإِنْ لَمْ يَذْہَبْ أَثَرُہُ فَلْتُغَيِّرْہُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ قَالَتْ وَلَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا

معاذہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حائضہ کے کپڑوں کو خون لگ جاتا ہے (تو کیا کرے؟) انھوں نے کہا کہ اسے دھوئے۔اگر اس کا نشان باقی رہے تو کچھ زردی (ورس بوٹی یا زعفران) سے اسے تبدیل کر دے۔کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے ہاں تین تین حیض آتے تھے،مگر میں اپنا کوئی کپڑا نہ دھوتی تھی۔