Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 413 (سنن أبي داود)

[413]صحیح

صحیح مسلم (622)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّہْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَہَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُہُمْ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوْ عَلَی قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللہَ فِيہَا إِلَّا قَلِيلًا

جناب علاء بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہہم نماز ظہر کے بعد سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے،تو وہ اٹھ کر نماز عصر پڑھنے لگ گئے۔جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے ان کے نماز عصر جلدی پڑھنے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے ذکر کیا تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے،فرماتے تھے۔’’یہ منافقوں کی نماز ہے،یہ منافقوں کی نماز ہے،یہ منافقوں کی نماز ہے کہ ان میں سے ایک بیٹھا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا ان سینگوں کے اوپر ہوتا ہے،تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ کا ذکر اس میں بس برائے نام ہی کرتا ہے۔‘‘