Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 418 (سنن أبي داود)

[418]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (609)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَوْمَئِذٍ عَلَی مِصْرَ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقَامَ إِلَيْہِ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ لَہُ مَا ہَذِہِ الصَّلَاةُ يَا عُقْبَةُ فَقَالَ شُغِلْنَا قَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ قَالَ عَلَی الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَی أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ

جناب یزید بن ابی حبیب،مرثد بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔وہ سفر جہاد میں تھے اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر کے حاکم تھے۔تو (جناب عقبہ نے) نماز مغرب میں کچھ تاخیر کر دی۔سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عقبہ! یہ کیا نماز ہے؟ کہا کہ ہم کام میں تھے۔کہا: کیا آپ نے نہیں سنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میری امت اس وقت تک خیر میں رہے گی۔“ یا فرمایا ’’فطرت پر رہے گی جب تک کہ مغرب کو مؤخر نہ کرے گی کہ ستارے نکل آئیں۔‘‘