Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 420 (سنن أبي داود)

[420]صحیح

صحیح مسلم (639)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللہِ ﷺ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَہُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَہُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ أَتَنْتَظِرُونَ ہَذِہِ الصَّلَاةَ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَی أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِہِمْ ہَذِہِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم نماز عشاء کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے۔آپ ﷺ اس وقت تشریف لائے جب رات کا تہائی حصہ گزر چکا تھا یا اس سے بھی زیادہ۔نہ معلوم آپ ﷺ کسی کام میں مشغول ہو گئے تھے یا کوئی اور بات تھی۔آپ ﷺ جب تشریف لائے تو فرمایا ’’کیا تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو؟ اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اسی وقت پڑھاتا۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اقامت کہی۔