Sunan Abi Dawood Hadith 4268 (سنن أبي داود)
[4268]صحیح
صحیح بخاری (31) صحیح مسلم (2888)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ أَيُّوبَ وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ،قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ-يَعْنِي: فِي الْقِتَالِ-،فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ،فَقَالَ: ارْجِعْ, فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْہِمَا،فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَذَا الْقَاتِلُ, فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّہُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہِ.
احنف بن قیس کہتے ہیں میں نکلنا چاہتا تھا کہ (معرکہ جمل میں) قتال میں حصہ لوں کہ مجھے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے ‘ تو انہوں نے کہا: واپس لوٹ جاؤ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ‘ آپ ﷺ فرما رہے تھے ’’جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو قاتل اور مقتول (دونوں) جہنمی بن جاتے ہیں۔‘‘ کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہوا مگر مقتول کا کیا قصور ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔‘‘