Sunan Abi Dawood Hadith 432 (سنن أبي داود)
[432]حسن
وللحدیث شواھد عند مسلم (534) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِيمَ دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِلَيْنَا قَالَ فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَہُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ قَالَ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْہِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُہُ حَتَّی دَفَنْتُہُ بِالشَّامِ مَيِّتًا ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَی أَفْقَہِ النَّاسِ بَعْدَہُ فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُہُ حَتَّی مَاتَ فَقَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِہَا قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِہَا وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَہُمْ سُبْحَةً
جناب عمرو بن میمون اودی سے روایت،وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں یمن تشریف لائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عامل بن کر آئے تھے۔(عمرو) کہتے ہیں کہ نماز فجر میں،میں نے ان کی تکبیر سنی۔وہ بھاری آواز والے تھے۔ان کو مجھ سے محبت ہو گئی تو میں نے انہیں مرتے دم تک نہیں چھوڑا حتیٰ کہ شام میں انہیں (اپنے ہاتھوں سے) دفن کیا۔ان کے بعد میں نے لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ آدمی پر نظر دوڑائی تو میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا اور ان کے ساتھ رہا،حتیٰ کہ وہ بھی فوت ہو گئے،تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا ’’تمہارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جو نمازوں کو بے وقت کر کے پڑھیں گے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ کی نماز کو نفل سمجھنا۔‘‘