Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 435 (سنن أبي داود)

[435]صحیح

صحیح مسلم (680)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ،عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّی إِذَا أَدْرَكَنَا الْكَرَی عَرَّسَ،وَقَال لِبِلَالٍ: ((اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ)) قَالَ: فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاہُ،وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی رَاحِلَتِہِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظِ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی إِذَا ضَرَبَتْہُمُ الشَّمْسُ،فَكَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَوَّلَہُمُ اسْتِيقَاظًا،فَفَزِعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا بِلَالُ))،فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللہِ،فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَہُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ لَہُمُ الصَّلَاةَ وَصَلَّی بِہِمُ الصُّبْحَ،فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاةَ،قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّہَا إِذَا ذَكَرَہَا فَإِنَّ اللہَ تَعَالَی قَالَ: ((أَقِمِ الصَّلَاةَ لِلذِّكْرَی))،قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِہَابٍ يَقْرَؤُہَا كَذَلِكَ،قَالَ أَحْمَدُ: قَالَ عَنْبَسَةُ: يَعْنِي عَنْ يُونُسَ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ ((لِذِكْرِي))،قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَی النُّعَاسُ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹ رہے تھے تو ایک رات،رات بھر چلتے رہے،حتیٰ کہ جب ہم کو نیند آنے لگی تو آپ ﷺ آرام کے لیے اتر گئے اور بلال سے فرمایا ’’آج رات ہمارا پہرہ دینا۔‘‘ بیان کرتے ہیں کہ پھر بلال کی آنکھیں بھی ان پر غالب آ گئیں (یعنی سو گئے) اور وہ اپنے اونٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے،چنانچہ نہ نبی کریم ﷺ جاگے،نہ بلال ہی اور نہ کوئی اور صحابی۔حتیٰ کہ جب انہیں دھوپ لگی تو رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے جاگنے والے تھے آپ گھبرائے اور فرمایا ’’اے بلال! انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول،مجھے بھی اسی چیز نے پکڑ لیا جس نے آپ کو پکڑا۔میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر (نبی کریم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم) وہاں سے چل دیئے (اور کچھ دور جا کر اترے) تب آپ ﷺ نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’جو شخص نماز کو بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت پڑھ لیا کرے۔بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ((أقم الصلاۃ للذکری)) نماز قائم کرو جب یاد آئے۔‘‘ یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اسی طرح ((للذکری)) (الف مقصورہ کے ساتھ) پڑھا کرتے تھے۔احمد نے بواسطہ عنبسہ،یونس سے ((للذکری)) (یائے متکلم کے ساتھ) روایت کیا ہے۔(یعنی میری یاد کے لیے یا میری یاد آنے کے وقت۔) احمد کہتے ہیں کہ (متن حدیث میں وارد لفظ) ((الکری)) کا معنی ’’اونگھ‘‘ ہے۔