Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 444 (سنن أبي داود)

[444]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ،ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَہَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ،أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَہُمْ،عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ،عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ،أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ،حَدَّثَہُمْ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَہُ،عَنْ عَمِّہِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ،قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِہِ فَنَامَ،عَنِ الصُّبْحِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((تَنَحَّوْا عَنْ ہَذَا الْمَكَانِ))،قَالَ: ((ثُمَّ أَمَر بِلَالًا فَأَذَّنَ،ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ،ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّی بِہِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ))

جناب زبرقان نے اپنے چچا سیدنا عمرو بن امیہ ضمری سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔آپ ﷺ صبح کے وقت میں سوئے رہے حتیٰ کہ سورج نکل آیا۔جب آپ ﷺ جاگے تو فرمایا ’’اس جگہ سے دور ہو چلو۔‘‘ پھر بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی۔پھر سب نے وضو کیا اور فجر کی سنتیں پڑھیں۔پھر بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور (آپ ﷺ نے) انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔