Sunan Abi Dawood Hadith 4448 (سنن أبي داود)
[4448]صحیح
صحیح مسلم (1700)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ،قَالَ: مُرَّ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ بِيَہُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ،فَدَعَاہُمْ،فَقَالَ: ہَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي؟،فَقَالُوا: نَعَمْ،فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِہِمْ،قَالَ لَہُ: نَشَدْتُكَ بِاللہِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَی مُوسَی،أَہَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ؟!،فَقَالَ: اللہُمَّ لَا, وَلَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِي بِہَذَا لَمْ أُخْبِرْكَ, نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ, وَلَكِنَّہُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا, فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الرَّجُلَ الشَّرِيفَ تَرَكْنَاہُ،وَإِذَا أَخَذْنَا الرَّجُلَ الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْہِ الْحَدَّ،فَقُلْنَا: تَعَالَوْا فَنَجْتَمِعُ عَلَی شَيْءٍ نُقِيمُہُ عَلَی الشَّرِيفِ،وَالْوَضِيعِ! فَاجْتَمَعْنَا عَلَی التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ،وَتَرَكْنَا الرَّجْمَ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: اللہُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوہُ،فَأَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ،فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا أَيُّہَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ-إِلَی قَوْلِہ-يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ ہَذَا فَخُذُوہُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوا-إِلَی قَوْلِہِ-وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِكَ ہُمُ الْكَافِرُونَ-فِي الْيَہُودِ إِلَی قَوْلِہِ-وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِكَ ہُمُ الظَّالِمُونَ-فِي الْيَہُودِ إِلَی قَوْلِہِ-وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللہُ فَأُولَئِكَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ[المائدة: 41-47], قَالَ: ہِيَ فِي الْكُفَّارِ كُلُّہَا.-يَعْنِي: ہَذِہِ الْآيَةَ-.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک ایسے یہودی کا گزر ہوا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اور اس کو مارا بھی جا رہا تھا،آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بلایا اور پوچھا ’’کیا تم زانی کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا: ہاں۔تو آپ نے ان کے ایک عالم کو بلایا اور اس سے فرمایا ’’میں تجھے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد ایسے ہی پاتے ہو؟‘‘ اس نے کہا: یا اللہ! نہیں۔اگر آپ نے مجھے یہ قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو نہ بتاتا۔ہم اپنی کتاب میں زانی کی حد رجم ہی پاتے ہیں،لیکن ہمارے شرفاء میں یہ زنا بہت بڑھ گیا تو ہم جب کسی شریف (بااثر شخص) کو پکڑتے تو چھوڑ دیتے تھے اور اگر کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔پھر ہم نے کہا: آؤ کسی ایسی بات پر متفق ہو جائیں جو ہم شریف اور کمزور سب پر نافذ کر سکیں۔چنانچہ ہم منہ کالا کرنے اور دھول دھپے پر متفق ہو گئے اور رجم کرنا چھوڑ دیا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے اللہ! میں وہ پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کر رہا ہوں جبکہ انہوں نے اس کو مردہ کر چھوڑا تھا۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس زانی کے متعلق حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔پس اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ کی) آیات (41 تا 47) نازل فرمائیں۔(ترجمہ) ’’اے رسول! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں آپ ان کے بارے میں غم نہ کریں۔۔۔۔تا۔۔۔وہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے (کوڑے مارنے کا) تو قبول کر لینا۔اگر یہ نہ ملے تو اس سے دور رہنا۔۔۔تا۔۔۔اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ کافر ہیں۔یہ یہودیوں کے بارے میں ہے۔۔۔تا۔۔۔اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ ظالم ہیں۔یہ یہودیوں کے بارے میں ہے۔۔۔تا۔۔۔اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ فاسق ہیں۔“ یہ سب آیات کفار کے متعلق ہیں۔